Home / اہم خبریں / گرفتاری یا ضمانت ،فیصلہ آج ہوگا
گرفتاری یا ضمانت ،فیصلہ آج ہوگا

گرفتاری یا ضمانت ،فیصلہ آج ہوگا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت 9 ملزموں کی عبوری ضمانت میں آج تک توسیع کرتے ہوئے نیب سے تمام ریکارڈطلب کرلیا، آصف زرداری اور فریال تالپور کو ضمانت ملے گی یا گرفتار ہونگے، عدالت آج فیصلہ کرے گی۔

گزشتہ روز جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔ آصف زرداری اور فریال تالپور عدالت پیش ہوئے، ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا ہمیں ریفرنس کی نقول تاحال فراہم نہیں کی گئیں، نقول ملنے پر پتا چلے گا کہ ہم پر الزام کیا ہے ؟ احتساب عدالت نے ریفرنس میں مچلکے منظور کر لئے ہیں، فیصلے کا انتظار ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا چیزیں بہت پھیلی ہوئی ہیں، ان کو سمیٹنا ہے، عدالت نے پو چھا کیا نیب نے آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں ؟ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا ملزم کو گرفتار نہیں کرنا چاہتے، وارنٹ جاری نہیں کئے، عدالت نے کہا تفتیشی افسر سے پوچھ لیتے ہیں، ان کو بلائیں، عدالتی استفسار پر تفتیشی افسر نے بتایا وارنٹ گرفتاری جمع کرائے ہوئے ہیں، گرفتار کرنے کی ضرورت ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا ایف آئی آر کے مطابق آصف زرداری کا مبینہ جعلی بینک اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں، آصف زرداری، زرداری گروپ کے ڈائریکٹر نہیں صرف شیئرز ہولڈر ہیں، عبوری چالان میں بھی آصف زرداری پر کوئی الزام نہیں، ضمانت منظور کی جائے۔ فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہونے پر پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے کہا جعلی اکاؤنٹس میں جو فنڈز ٹرانسفر کئے گئے انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا گیا جس پر سوال اٹھتا ہے۔

پراسیکیوٹرنے سپریم کورٹ کے فیصلے کا متن پڑھ کرسناتے ہوئے کہا سپریم کورٹ نے نیب کو مزید تحقیقات کے احکامات دیئے، عدالت کا حکم تھا کہ انکوائری کو دو ماہ میں مکمل ہونا چاہیے جس کے بعد ریفرنسز دائر کئے جائیں، جے آئی ٹی نے 32 اکاؤنٹس کی تحقیقات کیں، جن سے ہزاروں بینک اکاؤنٹس کا لنک ملا، دستاویزات شواہد کے طور پر موجود ہیں۔

اس دوران آصف زرداری روسٹرم پر آئے اور فاروق ایچ نائیک کے کان میں کوئی بات کر کے واپس نشست پر بیٹھ گئے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا انویسٹی گیشن کے دوران زرداری گروپ کے اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کی گئیں، جسٹس عامرفاروق نے کہا دو تین لائن میں کیس کی وضاحت کریں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا زرداری گروپ کے اس اکاؤنٹ پر آجائیں جس میں ڈیڑھ کروڑ روپیہ آیا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا فریال تالپور کاشتکار اور لینڈ لارڈ ہیں، اومنی گروپ کی شوگر ملز ہیں، ہم ان کو گنا سپلائی کرتے ہیں جس کا پیسہ آتا ہے، نیب پراسیکیوٹرنے کہا عمیر ایسوسی ایٹس کے جعلی اکاؤنٹس سے پیسے ٹرانسفر ہوئے، عدالت نے پو چھا ایک کروڑ 50 لاکھ کا اکاؤنٹ کس نے آپریٹ کیا، بینی فشری کون ہے ؟ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا زرداری گروپ کے اکاؤنٹ کو مسز تالپور آپریٹ کرتی تھیں، نیب کے تفتیشی افسر کی جانب سے ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

About admin

اپنا پیغام دیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top