Home / اہم خبریں / لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش،دوسرے روز بھی کوئی سراغ نا ملا
لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش،دوسرے روز بھی کوئی سراغ نا ملا

لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش،دوسرے روز بھی کوئی سراغ نا ملا

سکردو: لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے فضائی سرچ آپریشن کے دوسرے روز بھی ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے

ریسکیو ذرائع کے مطابق آج ہیلی کاپٹرز نے 7800 میٹر بلندی تک پرواز کی۔ ریسکیو ٹیم نے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ٹیم کو ڈھوںڈنے کی بھرپور کوشش کی لیکن ان سراغ نہیں مل سکا۔

فضائی سرچ آپریشن میں نامور نیپالی شرپا چنگ دوا اور ساجد سدپارہ نے حصہ لیا۔ سرچ آپریشن کے بعد ساجد سدپارہ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سکردو پہنچا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ لاپتا پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور دو غیر ملکی کوہ پیما سردیوں میں بغیر آکسیجن کے ٹو کو سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ محمد علی سد پارہ نے 2016ء میں سردیوں کی مہم جوئی کے دوران پہلی بار نانگا پربت کو سر کیا تھا۔

انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے آٹھ ہزار میٹر کی آٹھ چوٹیاں فتح کرنے کے علاوہ ایک سال کے دوران آٹھ ہزار میٹر کی چار چوٹیاں سر کی ہیں۔

کے ٹو کو سردیوں میں فتح کرنے کی مہم، نامور پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے جان پابلو انتہائی بلندی پر پہنچنے کےبعد واپس نہیں پہنچ سکے ہیں۔

علی سدپارہ سمیت دیگر کوہ پیماؤں کا جمعہ سے کیمپ سے رابطہ منقطع ہے۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے کوہ پیما ٹیم کی تلاش کی گئی لیکن خراب موسم اور تیز ہواؤں کے باعث ریسکیو آپریشن کامیاب نہ ہو سکا۔

مہم جوئی میں علی سدپارہ کے ساتھ ان کے بیٹے ساجد سد پارہ بھی موجود تھے جو آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونے پر بحفاظت کیمپ ون میں پہنچ گئے تھے۔

کوہ پیما علی سدرپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کو یقین ہے کہ ان کے والد نے “کے ٹو ” کی چوٹی سر کر لی تھی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں واپسی پر کوئی حادثہ پیش آیا ہوگا۔

ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ آخری بار والد کو بوٹل نیک پر چڑھتے دیکھا تھا۔ سکردو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ساجد سدپارہ نے کہا کہ کوہ پیماؤں کے زندہ بچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

About admin

اپنا پیغام دیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top